History Of Pakistan From 1857 To 1947 Notes In Urdu ~repack~

قائد اعظم نے 29 دسمبر 1930 کو مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں تاریخی خطبہ دیا۔ انہوں نے کہا:

تحریکِ پاکستان کی تاریخ میں یہ انتخابات فیصلہ کن ثابت ہوئے۔

ہندوستانیوں نے برطانوی راج کے خلاف ہتھیار اٹھائے۔ history of pakistan from 1857 to 1947 notes in urdu

پہلی جنگِ عظیم کے بعد سلطنتِ عثمانیہ کو بچانے کے لیے علی برادران نے یہ تحریک شروع کی۔

یہ تاریخی نوٹس 1857ء سے 1947ء تک مسلمانوں کی جدوجہدِ آزادی کے کلیدی واقعات کی عکاسی کرتے ہیں۔ مزید معلومات کے لیے: قائد اعظم نے 29 دسمبر 1930 کو مسلم

23 مارچ 1940 کو لاہور کے منٹو پارک (اب اقبال پارک) میں مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس ہوا۔

سر سید نے مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ وہ سیاست سے دور رہیں اور انگریزی اور جدید علوم سیکھیں تاکہ ہندوؤں کے مدمقابل آ سکیں۔ history of pakistan from 1857 to 1947 notes in urdu

برصغیر کے مسلمانوں اور ہندوؤں نے مل کر برطانوی راج کے خلاف ہتھیار اٹھائے۔ اس جنگ کی ناکامی کے بعد مسلمانوں پر مظالم کے پہاڑ توڑے گئے اور باقاعدہ طور پر برطانوی تاج کا اقتدار قائم ہو گیا۔

جب 1867ء میں بنارس کے ہندوؤں نے اردو کے مقابلے میں ہندی کو سرکاری زبان بنانے کا مطالبہ کیا (اردو ہندی تنازع)، تو سر سید نے پہلی بار اعلان کیا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ اقوام ہیں جو کبھی ایک ساتھ نہیں رہ سکتیں۔

— کانگریس کے دورِ حکومت میں مسلمانوں کے خلاف متعصبانہ پالیسیوں نے علیحدہ وطن کی ضرورت کو مزید واضح کر دیا۔ 1940: قراردادِ پاکستان (23 مارچ)

کانگریسی وزارتوں کے دو سالہ دور میں مسلمانوں پر ظلم و ستم ڈھایا گیا، ہندی کو لازمی قرار دیا گیا، گائے کے ذبیحہ پر پابندی لگی، اور "بندے ماترم" کا ترانہ نافذ کیا گیا۔

Добавить комментарий

Ваш e-mail не будет опубликован. Обязательные поля помечены *